ہم سفر

ابھی ابھی سبز کھیتیوں پر

جو دور تک مست آرزوؤں کی موج بن کر لہک رہی ہیں

سیاہ بادل جھکے ہوئے تھے

اور اب، حسیں دھوپ میں نہاتی فضائیں زلفیں چھٹک رہی ہیں

طویل پٹڑی کے ساتھ رقصاں

مہیب پیڑوں کے گونجتے جھنڈ، دراز سایوں سے بچتی راہیں

کہ جن کی موہوم سرحدوں پر

نکل کے گاڑی کی کھڑکیوں سے، تری نگاہیں مری نگاہیں

الگ الگ آ کے تھم گئی ہیں

اور ایک اندازِ بےکسی میں، مآلِ امروز سوچتی ہیں

پلٹ پلٹ کر امڈتے بادل

سمٹ سمٹ کر سرکتے آنچل

عجیب اک لذتِ طرب ہے!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s