کوئی بھی اب شریکِ غمِ آرزو نہیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 46
عزمِ نظر نہیں، ہوسِ جستجو نہیں
کوئی بھی اب شریکِ غمِ آرزو نہیں
ہے اس چمن میں نالۂ صد عندلیب بھی
صرف ایک شورِ قافلۂ رنگ و بو نہیں
میرے نصیبِ شوق میں لکّھا تھا یہ مقام
ہر سو ترے خیال کی دنیا ہے، تو نہیں
ہنستا ہوں پی کے ساغرِ زہرابِ زندگی
میں کیا کروں کہ مجھ کو تڑپنے کی خو نہیں
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s