کنواں

کنواں چل رہا ہے، مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں، نہ فصلیں، نہ خرمن، نہ دانہ

نہ شاخوں کی باہیں، نہ پھولوں کے مکھڑے، نہ کلیوں کے ماتھے، نہ رُت کی جوانی

گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو یوں چیرتا تیز، خوں رنگ پانی

کہ جس طرح زخموں کی دکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی

ادھر دھیری دھیری

کنوئیں کی نفیری

ہے چھیڑے چلی جا رہی اک ترانہ

پراسرار گانا

جسے سن کے رقصاں ہے اندھے تھکے ہارے بےجان بیلوں کا جوڑا بچارا

گراں بار زنجیریں، بھاری سلاسل، کڑکتے ہوئے آتشیں تازیانے

طویل اور لامنتہی راستے پر بچھا رکھے ہیں دام اپنے قضا نے

اِدھر وہ مصیبت کے ساتھی ملائے ہوئے سینگوں سے سینگ، شانوں سے شانے

رواں ہیں نہ جانے

کدھر؟ کس ٹھکانے؟

نہ رکنے کی تاب اور نہ چلنے کا یارا

مقدر نیارا

کنوئیں والا گادی پہ لیٹا ہے مست اپنی بنسی کی میٹھی سریلی صدا میں

کہیں کھیت سوکھا پڑا رہ گیا اور نہ اس تک کبھی آئی پانی کی باری

کہیں بہہ گئی ایک ہی تند ریلے کی فیاض لہروں میں کیاری کی کیاری

کہیں ہو گئیں دھول میں دھول لاکھوں رنگارنگ فصلیں، ثمردار ساری

پریشاں پریشاں

گریزاں گریزاں

تڑپتی ہیں خوشبوئیں دامِ ہوا میں

نظامِ فنا میں

اور اک نغمۂ سرمدی کان میں آ رہا ہے، مسلسل کنواں چل رہا ہے

پیاپے مگر نرم رو اس کی رفتار، پیہم مگر بےتکان اس کی گردش

عدم سے ازل تک، ازل سے ابد تک، بدلتی نہیں ایک آن اس کی گردش

نہ جانے لیے اپنے دولاب کی آستینوں میں کتنے جہان اس کی گردش

رواں ہے رواں ہے

تپاں ہے تپاں ہے

یہ چکر یونہی جاوداں چل رہا ہے

کنواں چل رہا ہے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s