کانٹے کلیاں

تم سے تو یہ ڈسنے والے کانٹے اچھے، ہنستے پھولو!

چنچل کانٹے، لانبی دوب کی ٹھنڈی چھاؤں کے متوالے

اپنی جلتی جلتی زباں سے چاٹ چاٹ کے دکھتے چھالے

ہر راہی کا دامن تھام کے کہتے ہیں

’’او جانے والے!

چلتے چلتے، جب تم اک دن پھاند کے یہ گم سم ویرانہ

دور، کسی وادی کے کنارے، کھول کے اپنے دل کا خزانہ

ڈرتے ڈرتے چھیڑو کوئی دھیما دھیما مست ترانہ

ہم نے ہی یہ بِس میں گھول کے رس بخشا تھا، بھول نہ جانا‘‘

تم سے تو یہ ڈسنے والے کانٹے اچھے، ہنستے پھولو!

ظالم پھولو! کتنے پیاسے خوابوں کے بیتاب ہیولے

کتنی زندگیوں کے بگولے، تمہاری خوشبوؤں کے جھولے

میں دو گھومتے لمحوں کے لب چوم کے اپنا رستہ بھولے

تم سے تو یہ کانٹے اچھے—

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s