پیش رَو

پت جھڑ کی اداس سلطنت میں

اک شاخِ برہنہ تن پہ تنہا

بےبرگ مسافتوں میں حیراں

کچھ زود شگفت شوخ کلیاں

جو ایک سرورِ سرکشی میں

اعلانِ بہار سے بھی پہلے

انجامِ خزاں پہ ہنس پڑی ہیں

تقدیرِ چمن بنی کھڑی ہیں!

اس یخ کدۂ یقینِ غم میں

دیکھو یہ شگفتہ دل شگوفے

ماحول نہ کائنات ان کی

اِک نازِ نمو حیات ان کی

عمر ان کی بس ایک پل ہے لیکن

آئیں گے انہی کی راکھ سے، کل

ماتھے پہ حسیں تلک لگائے

پھولوں بھری صبحِ نو کے سائے!

مجید امجد

پیش رَو” پر 1 تبصرہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s