سوکھا تنہا پتّا

اس بیری کی اونچی چوٹی پر وہ سوکھا تنہا پتّا!

جس کی ہستی کا بیری ہے پت جھڑ کی رت کا ہر جھونکا

کاش مری یہ قسمت ہوتی، کاش میں وہ اک پتّا ہوتا

ٹوٹ کے جھٹ اس ٹہنی سے گر پڑتا، کتنا اچھا ہوتا

گر پڑتا، اس بیری والے گھر کے آنگن میں گر پڑتا

یوں ان پازیبوں والے پاؤں کے دامن میں گر پڑتا

جس کو میرے آنسو پوجیں، اس گھر کے خاشاک میں مل کر

جس کو میرے سجدے ترسیں، اس دوارے کی خاک میں مل کر

اس آنگن کی دھول میں مل کر مٹتا مٹتا مٹ جاتا میں

عمر بھر ان قدموں کو اپنے سینے پر مضطر پاتا میں

ہائے! مجھ سے نہ دیکھا جائے، آیا ہوا کا جھونکا آیا

ڈالیاں لرزیں، ٹہنیاں کانپیں، لو، وہ سوکھا پتّا ٹوٹا

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s