زندگی، اے زندگی

خرقہ پوش و پا بہ گِل

میں کھڑا ہوں، تیرے درپر، زندگی

ملتجی و مضمحل

خرقہ پوش و پا بہ گِل

اے جہانِ خار و خس کی روشنی

زندگی، اے زندگی

میں ترے در پر چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے

سن رہا ہوں قہقہوں کے دھیمے دھیمے زمزمے

کھنکھناتی پیالیوں کے شور میں ڈوبے ہوئے

گرم، گہری گفتگو کے سلسلے

منقلِ آتش بجاں کے متصل

اور ادھر، باہر گلی میں، خرقہ پوش و پا بہ گِل

میں کہ اک لمحے کا دل

جس کی ہر دھڑکن میں گونجے دو جہاں کی تیرگی

زندگی، اے زندگی

کتنے سائے محوِ رقص

تیرے در کے پردۂ گلفام پر

کتنے سائے، کتنے عکس

کتنے پیکر محوِ رقص

اور اک تو کہنیاں ٹیکے خمِ ایام پر

ہونٹ رکھ کر جام پر

سن رہی ہے ناچتی صدیوں کا آہنگِ قدم

جاوداں خوشیوں کی بجتی گتکڑی کے زیر و بم

آنچلوں کی جھم جھماہٹ، پائلوں کی چھم چھمم

اس طرف، باہر، سرِ کوئے عدم

ایک طوفاں، ایک سیلِ بےاماں

ڈوبنے کو ہیں مرے شام و سحر کی کشتیاں

اے نگارِ دل ستاں

اپنی نٹ کھٹ انکھڑیوں سے میری جانب جھانک بھی

زندگی، اے زندگی!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s