راہگیر

کوئی تو مجھ کو بتائے یہ راہگیر ہے کون

حسین انکھڑیوں میں حسنِ شش جہات لیے

دمِ سحر ہے سرِ رہگزار محوِ سفر

سیاہ گیسوؤں میں بےکسی کی رات لیے

چلی ہے کون سی دنیائے بےنشاں کی طرف

ہزار گردشِ افلاک سات سات لیے

جبینِ ناز پہ دردِ مسافری کا ہجوم

پلک پلک پہ غبارِ رہِ حیات لیے

اداس چہرے پہ اک التجا کی گویائی

خموش لب پہ کوئی بےصدا سی بات لیے

خزاں کی سلطنتوں میں ہے ایک پھول رواں

ہر ایک خار سے امیدِ التفات لیے

لگی ہے اس کو لگن جانے کس ٹھکانے کی

بھٹک گئی نہ ہو ٹھوکر کوئی زمانے کی

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s