حسن

یہ کائنات مرا اک تبسمِ رنگیں

بہارِ خلد مری اک نگاہِ فردوسیں

ہیں جلوہ خیز زمین و زماں مرے دم سے

ہے نورریز فضائے جہاں مرے دم سے

گھٹا؟ نہیں یہ مرے گیسوؤں کا پرتو ہے!

ہوا؟ نہیں مرے جذبات کی تگ و دو ہے!

جمالِ گل؟ نہیں بےوجہ ہنس پڑا ہوں میں

نسیمِ صبح؟ نہیں سانس لے رہا ہوں میں

یہ عشق تو ہے اک احساسِ بیخودانہ مرا

یہ زندگی تو ہے اک جذبِ والہانہ مرا

ظہور کون و مکاں کا سبب فقط میں ہوں

نظامِ سلسلۂ روز و شب فقط میں ہوں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s