جبر و اختیار

دف دفِ طبلک، نفیرِ نے، سرودِ ارغنوں

بہہ رہا ہے ایک نغمہ چار سو نکہت فشاں

خواب گوں ایواں میں، دھندلے قمقموں کے درمیان

نرم سانسوں میں نگاروں کی لپک تھامے ہوئے

ناچتے پیکر ہیں اور آشوبِ صد آہنگِ ساز

کیا مجال اک چاپ بھی ہو گنکڑی سے بےنیاز

دائروں میں مست روحیں، موج موج اور زوج زوج

ہر طرازِ آستیں اک گوشۂ داماں میں گم

شورشِ ارماں کنارِ شورشِ ارماں میں گم

بیتتے لمحوں کی بجھتی مشعلوں سے پھوٹ کر

تیرتی پھرتی ہے حرفِ آرزو کی نغمگی

سرد ہونٹوں پر کبھی، مخمور آنکھوں میں کبھی

کالے کالے بادلوں کے دیس سے آتی ہوئی

رقص کی زنجیر کے سرگم سے ٹکراتی ہوئی

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s