جاروب کش

آسمانوں کے تلے، سبز و خنک گوشوں میں

کوئی ہو گا جسے اک ساعتِ راحت مل جائے

یہ گھڑی تیرے مقدر میں نہیں ہے، نہ سہی

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ راہوں پر

اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ اگر تو چن لے

کوئی اک غم تری قسمت کو بدل سکتا ہے

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ راہوں پر

تو اگر دیکھے تو خوشیوں کی گریزاں سرحد

سوزِ یک غم سے شکیبِ غمِ دیگر تک ہے

زندگی قہر سہی، زہر سہی، کچھ بھی سہی

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ لمحوں میں

جرعۂ سم کے لیے عفّتِ لب لازم ہے

اور تو ہے کہ ترے جسم کا سایہ بھی نجس

تو اگر چاہے تو ان تلخ و سیہ راہوں پر

جابجا، اتنی تڑپتی ہوئی دنیاؤں میں

اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ جنہیں تیری حیات

قوتِ یک شب کے تقدس میں سمو سکتی ہے

کاش تو حیلۂ جاروب کے پَر نوچ سکے!

کاش تو سوچ سکے ۔۔۔ سوچ سکے!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s