بس سٹینڈ پر

’’خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی!‘‘

’’خدا سے کیا گلہ، بھائی!

خدا تو خیر کس نے اس کا عکسِ نقشِ پا دیکھا

نہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا

مگر توبہ، مری توبہ، یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہے

یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے

ابھی کل تک، جب اس کے ابروؤں تک مُوئے پیچاں تھے

ابھی کل تک، جب اس کے ہونٹ محرومِ زنخداں تھے

ردائے صد زماں اوڑھے، لرزتا، کانپتا، بیٹھا

ضمیرِ سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا! ‘‘

’’مگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلوخانوں میں بستا ہے

ہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے

خدا اس کا، خدائی اس کی، ہرشے اس کی، ہم کیا ہیں!

چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرّہ ہیں‘‘

’’ہماری ہی طرح جو پائمالِ سطوتِ میری و شاہی میں

لکھوکھا، آبدیدہ، پاپیادہ، دل زدہ، واماندہ راہی ہیں

جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی غم پیما لکیروں میں

دکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں‘‘

’’ضرور اک روز بدلے گا نظامِ قسمتِ آدم

بسے گی اک نئی دنیا، سجے گا اک نیا عالم

شبستاں میں نئی شمعیں، گلستاں میں نیا موسم‘‘

’’وہ رُت اے ہم نفس جانے کب آئے گی؟

وہ فصلِ دیر رس جانے کب آئے گی؟

یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی؟‘‘

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s