افتاد

کوئی دوزخ کوئی ٹھکانہ تو ہو

کوئی غم حاصلِ زمانہ تو ہو

لالہ و گل کی رت نہیں، نہ سہی

کچھ نہ ہو، شاخِ آشیانہ تو ہو

کبھی لچکے بھی آسمان کی ڈھال

یہ حقیقت کبھی فسانہ تو ہو

ان اندھیروں میں روشنی کے لیے

طاقِ چوبیں پہ شمعِ خانہ تو ہو

کسی بدلی کی ڈولتی چھایا

کوئی رختِ مسافرانہ تو ہو

گونجتے گھومتے جہانوں میں

کوئی آوازِ محرمانہ تو ہو

اس گلی سے پلٹ کے کون آئے

ہاں مگر اس گلی میں جانا تو ہو

میں سمجھتا ہوں ان سہاروں کو

پھر بھی جینے کا اک بہانہ تو ہو

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s