اب آکاش سے پورب کا چرواہا ریوڑ ہانک چکا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 48
کس کی گھات میں گم سم ہو، خوابوں کے شکاری جاگو بھی
اب آکاش سے پورب کا چرواہا ریوڑ ہانک چکا
میں جو تیری راگ سبھا میں راس رچانے آیا تھا
دل کی چھنکتی جھانجن تیری پازیبوں میں ٹانک چکا
بوجھل پردے، بند جھروکا، ہر سایہ رنگیں دھوکا
میں اک مست ہوا کا جھونکا، دوارے دوارے جھانک چکا
اجڑی یادوں کے شہرِ خاموشاں میں کیا ڈھونڈتے ہو
اب وہ زمانہ وقت کی میلی چادر میں منہ ڈھانک چکا
کس کو خبر، اے شمع تری اس ڈولتی لو میں پروانہ
کتنے بگولے پھونک چکا اور کتنے الاؤ پھانک چکا
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s