ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 348
شکوہ کوئی بھی نہ دستِ ستم اِیجاد سے ہے
ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے
داستانوں میں تو ہم نے بھی پڑھا ہے، لیکن
آدمی کا بھی کوئی رِشتہ پری زاد سے ہے
زندہ ہے ذہن میں گزرے ہوئے لمحوں کی مہک
دشت آباد بہت، نکہتِ برباد سے ہے
سچ تو یہ ہے کہ تری نوک پلک کا رِشتہ
آخرِ کار ترے حسنِ خداداد سے ہے
اُس بلندی سے تجھے چاہے میں دِکھلائی نہ دوں
پھر بھی کچھ ربط تو دیوار کا بنیاد سے ہے
زہر کا جام ہو یا منبرِ دانش، عرفانؔ
ابنِ آدم کا جو ورثہ ہے وہ اَجداد سے ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s