چاند ہے اور چراغوں سے ضیا چاہتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 341
ہم سے وہ جانِ سخن ربطِ نوا چاہتی ہے
چاند ہے اور چراغوں سے ضیا چاہتی ہے
اُس کو رہتا ہے ہمیشہ مری وحشت کا خیال
میرے گم گشتہ غزالوں کا پتا چاہتی ہے
میں نے اتنا اسے چاہا ہے کہ وہ جانِ مراد
خود کو زنجیرِ محبت سے رہا چاہتی ہے
چاہتی ہے کہ کہیں مجھ کو بہا کر لے جائے
تم سے بڑھ کر تو مجھے موجِ فنا چاہتی ہے
روح کو روح سے ملنے نہیں دیتا ہے بدن
خیر‘ یہ بیچ کی دیوار گرا چاہتی ہے
ہم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہیں آزاد
گھر کو چلتے ہیں کہ اب شام ہوا چاہتی ہے
ہم نے ان لفظوں کے پیچھے ہی چھپایا ہے تجھے
اور انہیں سے تری تصویر بنا چاہتی ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s