پھر نہ کہنا کوئی زنجیر تمہارے لیے ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 349
جاؤ اب دشت ہی تعزیر تمہارے لیے ہے
پھر نہ کہنا کوئی زنجیر تمہارے لیے ہے
اپنے ہی دستِ تہی ظرف نے مارا تم کو
اب بکھر جانا ہی اکسیر تمہارے لیے ہے
آخرِ شب تمہیں آنکھوں کا بھرم کھونا تھا
اب کوئی خواب نہ تعبیر تمہارے لیے ہے
عکس نظارہ کرو زود پشیمانی کا
اب تمہاری یہی تصویر تمہارے لیے ہے
آج سے تم پہ درِ حرف و نوا بند ہوا
اب کوئی لفظ نہ تاثیر تمہارے لیے ہے
منصبِ درد سے دل نے تمہیں معزول کیا
تم سمجھتے تھے یہ جاگیر تمہارے لیے ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s