لشکر بھی ہے، خنجر بھی ہے، پہرا بھی ہے، دریا بھی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 344
منظر وہی، پیکر وہی، دیکھیں کوئی پیاسا بھی ہے
لشکر بھی ہے، خنجر بھی ہے، پہرا بھی ہے، دریا بھی ہے
پیروں میں ہے زنجیر کیوں، ہے خاک دامن گیر کیوں
رخصت بھی ہے، مہلت بھی ہے، ناقہ بھی ہے، رستہ بھی ہے
کچھ رقص کر، کچھ ہائے ہو، اے دل ہمیں دکھلا کہ تو
قیدی بھی ہے، وحشی بھی ہے، زخمی بھی ہے، زندہ بھی ہے
آشفتگاں، کیا چاہیے اس حرف کے کشکول میں
نعرہ بھی ہے، نالہ بھی ہے، نغمہ بھی ہے، نوحہ بھی ہے
صدیوں سے ہے اک معرکہ لیکن یہ سرکارِ وفا
قائم بھی ہے، دائم بھی ہے، برحق بھی ہے، برپا بھی ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s