سلونی شام جیسے خوں کی پیاسی ہوتی جاتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 338
سمٹتی دُھوپ تحریرِ حنا سی ہوتی جاتی ہے
سلونی شام جیسے خوں کی پیاسی ہوتی جاتی ہے
تھکے ہونٹوں سے بوسوں کے پرندے اُڑتے جاتے ہیں
ہوس جاڑے کی شاموں کی اُداسی ہوتی جاتی ہے
سکوتِ شب میں تم آواز کا شیشہ گرا دینا
فضا سنسان کمرے کی ننداسی ہوتی جاتی ہے
کوئی رَکھ دے کسی اِلزام کا تازہ گلاب اِس میں
بچھڑتی چاہتوں کی گود باسی ہوتی جاتی ہے
تو پھر اِک بار یہ چاکِ گریباں سب کو دِکھلا دیں
بہت بدنام اپنی خوش لباسی ہوتی جاتی ہے
غزل کی صحبتوں سے اور کچھ حاصل نہیں، لیکن
غزالوں سے ذرا صورت شناسی ہوتی جاتی ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s