باطن کی چمک سانولے پن میں بھی وہی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 347
احوال ترا شامِ بدن میں بھی وہی ہے
باطن کی چمک سانولے پن میں بھی وہی ہے
وحشت کے لیے شہر مناسب نہیں ورنہ
آہو تو مری جان ختن میں بھی وہی ہے
آباد نہیں اس سے فقط وصل کی بستی
وہ پھول ہے اور ہجر کے بن میں بھی وہی ہے
اک موج سے شاداب ہیں یہ دونوں کنارے
جو ہے مرے من میں ترے تن میں بھی وہی ہے
یہ راز کھلا روزنِ زنداں کی بدولت
سورج میں ہے جو بات کرن میں بھی وہی ہے
مٹّی ہی میں ملنا ہے تو اس شہر سے کیوں جائیں
مٹّی تو میاں ارضِ وطن میں بھی وہی ہے
تنہا ہوں سو اے میرے حریفو مری پہچان
رن میں بھی وہی بزمِ سخن میں بھی وہی ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s