یہ مضموں ابروئے جاناں کا تلواروں سے اچھا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 322
غزل کا رنگ کچھ ہو خون کے دھاروں سے اچھا ہے
یہ مضموں ابروئے جاناں کا تلواروں سے اچھا ہے
ہماری طرح اعلان گنہگاری نہیں کرتا
کم از کم شیخ ہم جیسے سیہ کاروں سے اچھا ہے
کسی کے پاؤں کے چھالے ہوں زنجیروں سے بہتر ہیں
کسی کے درد کا صحرا ہو، دیواروں سے اچھا ہے
کہاں ملتی ہے بے رنگ غرض جنس وفا صاحب
مری دُکان میں یہ مال بازاروں سے اچھا ہے
محبت میں کوئی اعزاز اپنے سر نہیں لیتا
یہ خادم آپ کے پاپوش برداروں سے اچھا ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s