ہماری خاک میں کوئی خرابی رہ گئی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 336
فلک پہ جاتی ہوئی ماہتابی رہ گئی ہے
ہماری خاک میں کوئی خرابی رہ گئی ہے
بس اب کے اس کی نگاہِ دگر پہ فیصلہ ہے
میں گم تو ہوچکا ہوں بازیابی رہ گئی ہے
چمک گیا تھا کبھی بندِ پیرہن اس کا
بدن سے لپٹی ہوئی بے حجابی رہ گئی ہے
غبارِ شب کے ادھر کچھ نہ کچھ تو ہے روشن
میں جاگتا ہوں ذرا نیم خوابی رہ گئی ہے
سمیٹنا ہی تو ہے ساز و برگِ خانۂ دل
اس ایک کام میں اب کیا شتابی رہ گئی ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s