پڑھا ہوا وہ دِلوں کی کتاب کتنا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 317
اُس ایک شخص کو مجھ سے حجاب کتنا ہے
پڑھا ہوا وہ دِلوں کی کتاب کتنا ہے
حقیقتیں بھی سہانی دِکھائی دیتی ہیں
بسا ہوا مری آنکھوں میں خواب کتنا ہے
وہ مل گیا ہے مگر جانے کب بچھڑ جائے
سکوں بہت ہے مگر اِضطراب کتنا ہے
نہ ہو گا کیا کبھی اُس کے بدن کا چاند طلوع
لہو میں اُترا ہوا آفتاب کتنا ہے
صدائیں اُس کی دِلوں میں اُترتی جاتی ہیں
گدائے شہرِ سخن باریاب کتنا ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s