سارا منظر مرے خوابوں کے جہاں جیسا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 316
پھول چہروں پہ سویروں کا سماں جیسا ہے
سارا منظر مرے خوابوں کے جہاں جیسا ہے
کیسا موسم ہے کوئی پیاس کا رشتہ بھی نہیں
میں بیاباں ہوں، نہ وہ ابرِ رواں جیسا ہے
تو یہاں تھا تو بہت کچھ تھا اسی شہر کے پاس
اب جو کچھ ہے وہ مرے قریۂ جاں جیسا ہے
جان بچنے پہ یہ شکرانہ ضروری ہے‘ مگر
جانتا ہوں ہنرِ چارہ گراں جیسا ہے
جوئے مہتاب تو میلی نہیں ہوتی‘ شاید
آج کچھ میری ہی آنکھوں میں دھواں جیسا ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s