ہر اک اُس سرکار کا چاکر، اُس در کا درباری ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 300
جو بھی سورج، چاند، ستارہ، خوشبو، بادِ بہاری ہے
ہر اک اُس سرکار کا چاکر، اُس در کا درباری ہے
لوگو، تم اس منظر شب کو کاہکشاں بتلاتے ہو
یہ تو اُنؐ کی خاک گزر ہے، اُنؐ کی گردِ سواری ہے
سر پر بوجھ گناہوں کا اور دل میں آس شفاعت کی
آگے رحمت اُنؐ کی ویسے مجرم تو اقراری ہے
اُنؐ کے کرم کے صدقے سب کے بند گراں کھل جاتے ہیں
داد طلب کہیں چڑیاں ہیں، کہیں آہوئے تاتاری ہے
عالم عالم دھوم مچی ہے اُنؐ کے لطف و عنایت کی
بستی بستی، صحرا صحرا فیض کا دریا جاری ہے
بزم وفا صدیقؓ و عمرؓ، عثمانؓ و علیؓ سے روشن ہے
چار ستارے، چاروں پیارے، چار کی آئینہ داری ہے
اُنؐ کی ذات پاک سے ٹھہرا اُن کا سارا گھرانہ پاک
جس کے لیے تطہیر کی چادر اُنؐ کے رب نے اُتاری ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s