کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 289
طلسمات تھا شہ سواروں کا شہر
کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے
کرامت کوئی ہونے والی تھی رات
فقیر اس گلی سے گزرنے کو تھے
ادھر تیر چلنے کو تھے بے قرار
ادھر سارے مشکیزے بھرنے کو تھے
ذرا کشتگاں صبر کرتے تو آج
فرشتوں کے لشکر اترنے کو تھے
سمندر ادا فہم تھا‘ رک گیا
کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
اگر ان کی بولی سمجھتا کوئی
تو دیوار و در بات کرنے کو تھے
ہوا نے ٹھکانے لگایا ہمیں
ہم اک چیخ تھے اور بکھرنے کو تھے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s