میں سر سے پا تک شمع جاں کس نے کیا روشن مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 291
کن قتل گاہوں سے ملا گل رنگ پیراہن مجھے
میں سر سے پا تک شمع جاں کس نے کیا روشن مجھے
اس خاک تن کو چاک پر کس نے نیا پیکر دیا
ان گردشوں کی آگ میں کس نے کیا کندن مجھے
کس نے کیا مسند نشیں اس بوریائے عشق پر
کس نے دیا احساس کا یہ راج سنگھاسن مجھے
میرے تصور سے سوا ان کی عطا، اُن کی سخا
اتنے خزانے مل گئے چھوٹا لگا دامن مجھے
وہ سرور و رہبر بھی ہیں، وہ یاور و دلبر بھی ہیں
میں کیوں نہ اُن پر وار دوں حاصل ہیں جان و تن مجھے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s