رک بھی جائیں تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 311
بے دلاں، کارِ نظر ختم کہاں ہوتا ہے
رک بھی جائیں تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے
نیند سے پہلے بہت شور مچاتے ہیں خیال
شب کو ہنگامۂ سر ختم کہاں ہوتا ہے
چاہتا کون ہے مرنے کی اذیت سے نجات
زہر توُ ہے تو اثر ختم کہاں ہوتا ہے
اگلے موسم میں پھر آئیں گے نئے برگ و ثمر
اے ہوا بارِ شجر ختم کہاں ہوتا ہے
اپنی ہی آگ سے روشن ہوں میں اک ذرۂ خاک
دیکھئے رقصِ شرر ختم کہاں ہوتا ہے
بولتے بولتے ہوجاتے ہیں خاموش چراغ
سخنِ سایۂ در ختم کہاں ہوتا ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s