اس کے آگے کچھ بھی نہیں ہے سارا منظر خالی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 302
دل کی زمیں تک روشنیاں ہیں، پانی ہے، ہریالی ہے
اس کے آگے کچھ بھی نہیں ہے سارا منظر خالی ہے
اگلے تو یہ بام و در و محراب بناکر چھوڑ گئے
میرا مقدر گرتی ہوئی دیواروں کی رکھوالی ہے
قیس گیا فرہاد گیا اب جو چاہو اعلان کرو
یارو کس نے جنگل دیکھا، کس نے نہر نکالی ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s