وہ ہم سے کہہ رہا ہے کیا مجھے بیمار کردیں گے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 285
سو ہم نذرِ فراموشی یہ سب اشعار کردیں گے
وہ ہم سے کہہ رہا ہے کیا مجھے بیمار کردیں گے
وہی سچ ہے جو آنکھوں سے ہویدا ہوتا رہتا ہے
اگر ہونٹوں سے پوچھو گے تو وہ انکار کردیں گے
بدن کی ریت پر اب تک اسی وعدے کا سایہ ہے
اب آئیں گے تو تیرے دشت کو گلزار کردیں گے
بتانِ شہر سے یہ دل تو زندہ ہو نہیں سکتا
بہت ہو گا تو میری خواہشیں بیدار کر دیں گے
قیامت استعارہ ہے اشارہ میرے قاتل کا
کہ ہم ابرو ہی کیا سارا بدن تلوار کردیں گے
انہیں دیوارِ جاں ہی سے الجھنے دو کہ وحشی ہیں
اگر چھیڑا تو دیوارِ جہاں مسمار کردیں گے
کسی کو شہر میں سیلِ بلا کی زد پہ آنا ہے
چلو یہ کام بھی میرے در و دیوار کردیں گے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s