نگاہوں سے جو چپکے ہیں وہ منظر کیسے پھینکو گے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 286
ہر اِک تصوِیر کو کھڑکی سے باہر کیسے پھینکو گے
نگاہوں سے جو چپکے ہیں وہ منظر کیسے پھینکو گے
جھٹک کر پھینک دو گے چند اَن چاہے خیالوں کو
مگر کاندھوں پہ یہ رکھا ہوا سَر کیسے پھینکو گے
اگر اِتنا ڈروگے اَپنے سر پر چوٹ لگنے سے
تو پھر تم آم کے پیڑوں پہ پتھر کیسے پھینکو گے
خیالوں کو بیاں کے دائروں میں لاؤ گے کیوں کر
کمندیں بھاگتی پرچھائیوں پر کیسے پھینکو گے
کبھی سچائیوں کی دُھوپ میں بیٹھے نہیں اَب تک
تم اَپنے سر سے یہ خوابوں کی چادر کیسے پھینکو گے
تو پھر کیوں اُس کو آنکھوں میں سجا کر رکھ نہیں لیتے
تم اِس بیکار دُنیا کو اُٹھاکر کیسے پھینکو گے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s