انگلیاں ہونٹوں پہ رکھی ہیں زباں کیسے کھلے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 278
پوچھنے والو، مرا راز نہاں کیسے کھلے
انگلیاں ہونٹوں پہ رکھی ہیں زباں کیسے کھلے
ایک بار اور مرے سینے پر رکھ پھول سا ہاتھ
ایک دستک پہ یہ دروازۂ جاں کیسے کھلے
کوئی یاد آئے تو یہ دل کے دریچے وا ہوں
آنے والا ہی نہیں کوئی، مکاں کیسے کھلے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s