کیا تیغ ہے، چل جائے تو چلتی ہی چلی جائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 249
گرتی ہی چلی جائے سنبھلتی ہی چلی جائے
کیا تیغ ہے، چل جائے تو چلتی ہی چلی جائے
رُک جاؤں تو بن جائے ہر اک راستہ دیوار
نکلوں تو ہر اک راہ نکلتی ہی چلی جائے
بہتر یہی ہو گا کہ ہم آرام سے سو جائیں
اچھی شب وعدہ ہے کہ ڈھلتی ہی چلی جائے
کیا دار عمل ہے کہ جو جی چاہے سو کیجے
کیا خوب قیامت ہے کہ ٹلتی ہی چلی جائے
اک آگ ہے خوں میں کہ جو مدھم نہیں ہوتی
اک شمع ہے دل میں کہ پگھلتی ہی چلی جائے
میں ہوں کہ جو دھوکا نہیں کھاتا کسی صورت
دنیا ہے کہ یہ روپ بدلتی ہی چلی جائے
ہم تو خس و خاشاک سمجھتے تھے بدن کو
یہ کون سی مٹی ہے کہ جلتی ہی چلی جائے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s