عرفانؔ تم یہ درد کی دولت کہاں سے لائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 252
دستِ تہی میں گوہرِ نصرت کہاں سے لائے
عرفانؔ تم یہ درد کی دولت کہاں سے لائے
سب دین ہے خدا کی سو ہر دودمانِ شوق
چادر کہاں سے لائے ولایت کہاں سے لائے
پانی نہ پائیں ساقی کوثر کے اہلِ بیتؑ
موج فرات اشک ندامت کہاں سے لائے
لو ہاتھ اہلِ صبر و رضا نے کٹا دیے
اب ظلم سوچتا ہے کہ بیعت کہاں سے لائے
میں آلِ خانہ زاد علیؑ ، اُن کا ریزہ خوار
قسمت نہ ہو تو کوئی یہ نسبت کہاں سے لائے
ہاں اہلِ زر کے پاس خزانے تو ہیںؓ مگر
مولاؑ کا یہ فقیر ضرورت کہاں سے لائے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s