جبیں اُٹھا، کہ یہ بندہ خدا نہ ہونے پائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 253
نیاز عشق بھی حد سے سوا نہ ہونے پائے
جبیں اُٹھا، کہ یہ بندہ خدا نہ ہونے پائے
مرے عدو، ترے ترکش میں آخری ہے یہ تیر
تو دیکھ، اب کے نشانہ خطا نہ ہونے پائے
عجب یہ کہنہ سرا ہے، عجب چراغ ہیں ہم
کہ ساری رات جلیں اور ضیاء نہ ہونے پائے
ہمارا دل بھی اک آئینہ ہے مگر اس میں
وہ عکس ہے جو کبھی رونما نہ ہونے پائے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s