بے تیغ و تیر، شحنہ لشکر بھی ہو گئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 256
ہم دل فگار آج دلاور بھی ہو گئے
بے تیغ و تیر، شحنہ لشکر بھی ہو گئے
پہلے بھی خودسری تو بہت تھی خمیر میں
اب کج کلاہیوں پہ مقرر بھی ہو گئے
آزادگی تو جا نہیں سکتی مزاج کی
میر سپاہ لے ترے نوکر بھی ہو گئے
یہ سب ولائے فاتح خیبر کا فیض ہے
ہم سر جھکا کے صاحب افسر بھی ہو گئے
ہم نے کہا نہ تھا کہ ہیں مشکل کشا علی
وہ معرکے جو بس کے نہ تھے سر بھی ہو گئے
اب کیا شکایت ستم دہر کیجیے
جتنے گلے تھے داخل دفتر بھی ہو گئے
نافذ ہوا وہی شہہ مرداں کا فیصلہ
دشمن کے دستخط سر محضر بھی ہو گئے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s