کس سمت رہا ہو کے گرفتار نکل آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 237
جنگل میں بھی بستی کے سے آثار نکل آئے
کس سمت رہا ہو کے گرفتار نکل آئے
میدان میں ہر چند میں تنہا تھا مگر خیر
لوٹا تو بہت میرے مددگار نکل آئے
پھر ہم پہ ستم ہو کہ پئے حلقۂ یاراں
کچھ حیلۂ مدّاحیِ سرکار نکل آئے
اندیشۂ جاں خیمے کی دیوار تلک ہے
کچھ بھی نہیں ہو گا اگر اک بار نکل آئے
بازار میں آئے ہیں تو کیوں مول گھٹائیں
شاید کوئی اپنا بھی خریدار نکل آئے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s