خیموں میں بہت دیر سے بیدار ہیں ہم بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 229
ہو صبح کہ سر دینے پہ تیار ہیں ہم بھی
خیموں میں بہت دیر سے بیدار ہیں ہم بھی
نسبت ہے اُسی قافلۂ اہل وفا سے
واماندہ سر کوچہ و بازار ہیں ہم بھی
کب لوٹیں گے وہ وادئ غربت کے مسافر
اک عمر سے روشن سر دیوار ہیں ہم بھی
ہم کو بھی مصاف لب دریا کی اجازت
کچھ تشنہ دہاں بچوں کے غم خوار ہیں ہم بھی
ہم کو بھی ملے معرکۂ صبر میں نصرت
کچھ ناقہ نشینوں کے نگہ دار ہیں ہم بھی
کوثر پہ بھی لے چل ہمیں اے قافلہ سالار
آخر تو غبار پس رہوار ہیں ہم بھی
روشن ہمیں رکھتا ہے یہی درد جہاں تاب
ان کشتہ چراغوں کے عزاوار ہیں ہم بھی
اے مالک کل، سید سجاد کا صدقہ
یہ بند گراں کھول کہ بیمار ہیں ہم بھی
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s