اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 226
چراغِ خانۂ افسردگاں جلائے بھی
اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی
وہ چاند ہے تو مرے بام پر طلوع بھی ہو
ستارہ ہے تو مری شام جگمگائے بھی
وہ پھول ہے تو مری شاخِ جاں بھی مہکائے
اگر ہوا ہے تو میرے بدن تک آئے بھی
وہ شعلہ ہے تو مجھے خاک بھی کرے آخر
اگر دیا ہے تو کچھ اپنی لو بڑھائے بھی
سخن سرا ہے تو مجھ سے مکالمہ بھی کرے
گلہ سنے بھی اور اپنی غزل سنائے بھی
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s