ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 209
شہاب چہرہ کوئی گم شدہ ستارہ کوئی
ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی
اُمیدواروں پہ کھلتا نہیں وہ بابِ وصال
اور اس کے شہر سے کرتا نہیں کنارہ کوئی
مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا
خیال ڈھونڈتا رہتا ہے استعارہ کوئی
کہاں سے آتے ہیں یہ گھر اُجالتے ہوئے لفظ
چھپا ہے کیا مری مٹی میں ماہ پارہ کوئی
بس اپنے دل کی صدا پر نکل چلیں اس بار
کہ سب کو غیب سے ملتا نہیں اشارہ کوئی
گماں نہ کر کہ ہوا ختم کارِ دل زدگاں
عجب نہیں کہ ہو اس راکھ میں شرارہ کوئی
اگر نصیب نہ ہو اس قمر کی ہم سفری
تو کیوں نہ خاکِ گزر پر کرے گزارہ کوئی
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s