شکن اَبھی کوئی اَبروئے نکتہ چیں پہ نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 198
تو اُس کا دھیان مرے مصرعِ حسیں پہ نہیں
شکن اَبھی کوئی اَبروئے نکتہ چیں پہ نہیں
مکان چھوڑ گئے لوگ، ڈھونڈتے ہو کسے
کوئی ستارہ اَب اِس بامِ انجمن پہ نہیں
بہت ملی تھیں دُعائیں فلک نشینی کی
ہمارا کچھ بھی بدن کے سوا زمیں پہ نہیں
اَب ایسے شخص کو قاتل کہیں تو کیسے کہیں
لہو کا کوئی نشاں اُس کی آستیں پہ نہیں
اُداس خشک لبوں پر لرز رہا ہو گا
وہ ایک بوسہ جو اَب تک مری جبیں پہ نہیں
میں جل رہا ہوں حقیقت کی دُھوپ میں کب سے
کسی گماں کا بھی سایہ مرے یقیں پہ نہیں
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s