خزاں کی رت میں بھی ابرِ بہاراں بھیج دے کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 211
گہر برسانے والے‘ موجِ باراں بھیج دے کوئی
خزاں کی رت میں بھی ابرِ بہاراں بھیج دے کوئی
پرندے تھک چکے ہیں اڑتے اڑتے آسمانوں میں
انہیں بھی اب نویدِ شاخساراں بھیج دے کوئی
بہت دن سے غبار اٹھا نہیں ویران راہوں پر
خرابوں میں گروہِ شہسواراں بھیج دے کوئی
مری بستی کے سارے رہنے والے سرکشیدہ ہیں
تو پھر کس کو کلاہ شہر یاراں بھیج دے کوئی
جو اوروں کے دکھوں کا بار اٹھائے پھرتے رہتے ہیں
اب ان شانوں کو دستِ غمگساراں بھیج دے کوئی
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s