اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 199
مال کیا پاس ترے ہمت عالی بھی نہیں
اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں
سرِ شوریدہ کو تہذیب سکھا بیٹھا ہوں
ورنہ دیوار مجھے روکنے والی بھی نہیں
خیمۂ شب میں عجب حشرِ عزا برپا ہے
اور ابھی رات چراغوں نے اجالی بھی نہیں
اور ہی شرط ہے پرواز کی، دیکھا تم نے
اب تو وہ مسئلۂ بے پر و بالی بھی نہیں
رات دن شعروں میں تمثال گری کرتا ہوں
طاقِ دل میں کوئی تصویر خیالی بھی نہیں
نقشِ پا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے
ہم نے ایسی تو کوئی راہ نکالی بھی نہیں
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s