ہم کو سب مہربان ملتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 185
در پئے جسم و جان ملتے ہیں
ہم کو سب مہربان ملتے ہیں
زندگی ہے تو دشمنان عزیز
پھر تہہ آسمان ملتے ہیں
حرج کیا ہے ہمارے ملنے میں
رات دن بھی تو آن ملتے ہیں
کیوں نہ تم میرے دل میں بس جاؤ
اس گلی میں مکان ملتے ہیں
سارے آئندگاں کو رستے ہیں
رفتگاں کو نشان ملتے ہیں
کشتیوں کا تو نام ہوتا ہے
شوق کو بادبان ملتے ہیں
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s