عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 177
ہم اپنے ذہن کی آب و ہوا میں زندہ ہیں
عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں
گزرنے والے جہازوں کو کیا خبر ہے کہ ہم
اسی جزیرۂ بے آشنا میں زندہ ہیں
گلی میں ختم ہوا قافلے کا شور‘ مگر
مسافروں کی صدائیں سرا میں زندہ ہیں
مجھے ہی کیوں ہو کسی اجنبی پکار کا خوف
سبھی تو دامنِ کوہِ ندا میں زندہ ہیں
خدا کا شکر‘ ابھی میرے خواب ہیں آزاد
مرے سفر مری زنجیر پا میں زندہ ہیں
ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s