اپنے ہونے کا اعلان کرتے رہیں‘ اپنے ہونے کا اثبات کرتے رہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 190
روح کے معجزوں کا زمانہ نہیں جسم ہی کچھ کرامات کرتے رہیں
اپنے ہونے کا اعلان کرتے رہیں‘ اپنے ہونے کا اثبات کرتے رہیں
برف رت آگئی پھر نئی بستیوں سے نئی ہجرتوں نے پکارا ہمیں
لیکن اس بار پردیس جاتے ہوئے راستوں پر نشانات کرتے رہیں
پھر کوئی تشنہ لب تیر اس دشت میں ہم تک آیا ہے طے کر کے کتنا سفر
اے رگِ جاں کی جوئے رواں، ہم بھی کچھ میہماں کی مدارات کرتے رہیں
ایک ہی پیڑ پر سانپ اور آدمی ساتھ رہتے ہیں سیلاب اترنے تلک
ہمسفر ہے اگر دشمنِ جاں تو کیا‘ راہ سنسان ہے‘ بات کرتے رہیں
جان لینے کا ویسا سلیقہ ابھی لشکرِ دشمناں میں کسی کو نہیں
آؤ اب اپنے خیموں میں واپس چلیں دوستوں سے ملاقات کرتے رہیں
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s