اب تک خیام دشت میں برپا ہمارے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 188
سب داغ ہائے سینہ ہویدا ہمارے ہیں
اب تک خیام دشت میں برپا ہمارے ہیں
وابستگان لشکر صبر و رضا ہیں ہم
جنگل میں یہ نشان و مصلیٰ ہمارے ہیں
نوک سناں پہ مصحف ناطق ہے سربلند
اونچے علم تو سب سے زیادہ ہمارے ہیں
یہ تجھ کو جن زمین کے ٹکروں پہ ہے غرور
پھینکے ہوئے یہ اے سگ دنیا، ہمارے ہیں
سر کر چکے ہیں معرکۂ جوئے خوں سو آج
’’روئے زمیں پہ جتنے ہیں دریا ہمارے ہیں‘‘
آخری شعر کا مصرع ثانی میر مونس کا ہے
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s