گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 151
کوئلیں پھر بھولے بسرے غم جگانے آگئیں
گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں
ٹھنڈے دالانوں میں پھر کُھلنے لگی دِل کی کتاب
جلتی دوپہریں سرا پردے گرانے آگئیں
ڈھک گئیں پھر صندلیں شاخیں سنہری بور سے
لڑکیاں دَھانی دوپٹے سر پہ تانے آگئیں
پھر دَھنک کے رَنگ بازاروں میں لہرانے لگے
تتلیاں معصوم بچوں کو رِجھانے آگئیں
کھل رہے ہوں گے چھتوں پر سانولی شاموں کے بال
کتنی یادیں ہم کو گھر واپس بلانے آگئیں
دُھول سے کب تک کوئی شفاف جذبوں کو بچائے
خواہشوں کی آندھیاں پھر خاک اُڑانے آگئیں
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s