پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 148
دل پہ یہ مشقِ ستارہ نظری آخر کیوں
پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں
میں ہی کیوں حلقۂ زنجیرِ تعلق میں اسیر
تو ہر الزامِ تعارف سے بری آخر کیوں
شاعری میں تو بہت دشت و بیابان کا ذکر
زندگی میں گلۂ دربدری آخر کیوں
اب کہیں کوئی تقاضا نہ کوئی شرطِ وصال
مجھ سے آگے مری شوریدہ سری آخر کیوں
دشتِ ہجراں کے کڑے کوس تو سب کے لیے ہیں
میں ہی ارمان کروں ہم سفری آخر کیوں
دل اگر لہر میں آئے تو اڑا کر لے جائے
عشق میں شکوۂ بے بال و پری آخر کیوں
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s