آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 142
اب تو باقی ہے یہی سمت سفر چلتا ہوں
آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں
سوچنا کیا ہے اگر دشت زمیں ختم ہوا
میرے دل میں بھی تو صحرا ہے اُدھر چلتا ہوں
آخری رنگ ہواؤں سے بنا ہے کب تک
رخصت اے موسم بے رنگ و ثمر، چلتا ہوں
راہ میں چھوٹتے جاتے ہیں ملاقات کے بوجھ
جانے کیوں لے کے یہ سامان سفر چلتا ہوں
گھر سے نکلا تھا کہ صحرا کا تماشا دیکھوں
جب یہاں بھی وہی نقشہ ہے تو گھر چلتا ہوں
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s